Posts

The End of Expectation: A New Way of Life

Image
  In the journey of life, we often carry silent expectations—especially from those who are closest to us. Our mother, father, brother, sister, or someone we deeply care for. Without saying a word, we assume they will understand us, support us, and stand with us in every situation. Over time, these unspoken expectations quietly become emotional weight. The truth is simple, yet difficult to accept: Insaan aksar dard doosron ki wajah se nahi, balki apni expectations ki wajah se mehsoos karta hai. This does not mean we stop caring or doing our duty. It means we continue doing what is right—without attaching our peace to how others respond. Why Expectations Create Pain Expectations are not wrong by nature. But when they turn into assumptions, they slowly become the root of disappointment. When we expect our mother to understand our silence, when we believe our brother will always think like us, when we assume our sister will always respond the way we hope— we unknowingly creat...

درد میں یاد آنے والی ماں اور اس کی خدمت

Image
یوں تو میں اپنا کام کسی سے نہیں کروانا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا بوجھ کسی بھی طرح کسی پر نہ پڑے۔ میں اپنی پوری زندگی میں ہر کام خود ہی کرنا چاہتا ہوں۔ چاہے دفتر سے آ کر تھک کر بیٹھ جانا ہو، یا بدن میں کوئی تکلیف ہو، یا کوئی اور ایسی پریشانی ہو—چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی—میں اسے خود ہی سنبھالنا چاہتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی انسان کسی سے مدد لینے پر مجبور ہو جاتا ہے، شاید نہ چاہتے ہوئے بھی۔ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی ماں یاد آتی ہے۔ اللہ نے ماں سے انسان کا ایسا رشتہ بنایا ہے کہ دنیا میں وہ اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ ایک شام میرے سر میں درد ہو رہا تھا، یہاں تک کہ میں نے ایک کے بعد ایک چار گولیاں کھا لیں۔ درد تو کچھ کم ہو جاتا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ دفتر میں اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے سے سر کے درد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اگر آپ موبائل، لیپ ٹاپ یا کسی بھی اسکرین کے سامنے کام کرتے رہیں تو سر کا درد آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ جب میں گھر آیا تو کافی پریشان بھی تھا اور بہت تھکا ہوا بھی تھا۔ مجھے جب بھی کبھی درد...

The Heart of Teaching: A Journey of Passion, Purpose, and Connection

Image
Teaching is not just about books, lessons, or classrooms — it is about connection, purpose, and a deep desire to share knowledge. Since childhood, I have always had a passion for teaching. I started by helping and teaching my younger siblings. At that time, I never thought I would become a teacher, nor did I ever claim to be a great one. Some people have appreciated my teaching, and thankfully, no one has criticized me. Maybe they didn’t want to demotivate me — or perhaps Allah knows better how I truly teach. One thing, however, is absolutely clear: I genuinely enjoy teaching. It brings me happiness, peace, and a special sense of fulfillment. When I teach, I don’t just see students — I see friends, companions, and sometimes even family members. A unique bond develops between teacher and student, a bond built on trust, respect, and care. I began giving tuitions when I was in Class 10. When my father passed away, teaching became more than just a passion — it became a source of side incom...

Remembering My Father: A Reflection on Time, Loss, and Returning to Allah

Today, as I was sitting quietly, an old memory came back to me. I started thinking about the last Bihar election results. At that time, my father was alive. We were living in Delhi — just me, my sister, and my father. I don’t exactly remember the exact date of the last Bihar vote counting, but it was probably around November or December 2020. During those days, my father’s sugar levels had become very high, so even we reduced our sugar intake at home. I used to help my sister in cooking, and together we took care of him, not knowing that these were his last moments with us. I still remember clearly — our ticket to travel was for 2nd February, and on 1st February, the three of us went out and ate momos together. That was the last time I met him in a normal state. After that, we returned to Bihar on the 2nd of February. Later, when my father’s condition became serious, my mother and I came to Delhi to be with him. But he didn’t have many days left. Soon after, he left this world and retu...

مجھے معاف کر دینا — ایک دل کی خاموش فریاد

Image
میرا دل، میری نیت میں زندگی میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ میری نیت ہمیشہ صاف رہی ہے — نہ کسی کو دکھ دینے کی خواہش، نہ کسی سے حسد۔ میں چاہتا ہوں کہ سب خوش رہیں، اپنی جگہ مطمئن رہیں، اپنے خواب پورے کریں۔ نہ مجھے کسی کی کامیابی سے جلن ہوتی ہے، نہ میں کسی کے آگے پیچھے گھوم کر کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ جو رزق، عزت اور کامیابی میرے لیے لکھی ہے، وہ صرف اللہ کے حکم سے ملے گی۔ میں کیوں جَلوں؟ اللہ ناراض ہو جائے گا، اور میرے لیے وہی کافی ہے۔ میں ایسا انسان ہوں جو یا تو اپنے دل کو خوش رکھنے کی بات کرتا ہے، یا پھر کسی جذبے میں بہہ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ لمحے جو الفاظ میں کبھی نہیں ڈھل سکے زندگی میں کچھ لمحے ایسے آئے جب نہ کچھ کہہ سکا، نہ کچھ کر سکا۔ ابّا کے انتقال کے بعد امّی کی خاموشی نے گھر کی رونق چھین لی۔ وہ کبھی پہلے جیسی نہیں رہیں — اُن کی ہنسی جیسے کہیں گم ہو گئی۔ اس گھر کو سنبھالنے کے لیے بہت حوصلے کی ضرورت پڑی۔ میں اکثر سوچتا ہوں اگر میں نہ ہنسوں، تو شاید سب کے چہرے اتر جائیں۔ اسی لیے میں مسکراتا ہوں، چاہے دل اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اپنوں میں س...

کُچھ پَل والد کی یاد میں

Image
یوں تو ہر انسان کی زندگی میں نہ جانے کتنے لمحے آتے ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی میں اچھے اور برے دور سے گزرتا ہے۔ لیکن کچھ بُرا دور ایسا بن جاتا ہے کہ جیسے وہاں زندگی ٹھہر سی گئی ہو۔ اگر انسان اُس دور میں واپس جائے تو اُسے یقین نہیں ہوتا کہ کس طرح اللہ نے اُسے صبر عطا کیا تھا۔ وہ شخص جو اُس کے لیے سب کچھ تھا، آج اُس کے درمیان نہیں تھا۔ اور وہ شخص جو کبھی اُس کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا، آج اُسی کو اپنے ہاتھوں سے زمین میں دفنا کر آیا تھا۔ گویا اُس نے اپنی زندگی کے سب سے عزیز رشتے کو، جس کے ساتھ اُس کا بچپن گزرا تھا، کیڑوں مکوڑوں کے حوالے کر آیا تھا۔ بچپن میں اُن کا ساتھ اگر میں بچپن کی بات کروں تو لوگ کہتے تھے کہ وہ مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ شاید مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ وہ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ بہت خوشی ہوتی تھی وقت گزارنا ان کے ساتھ۔ اگر کوئی چیز مجھے اچھی لگ جاتی اور میں ان سے کہتا، تو وہ ضرور لے کر آ دیتے۔ جب ہم بڑے ہوئے تو انہوں نے ہمیں شہر کے سب سے اچھے اسکول میں داخل کرایا۔ پتہ نہیں کیوں، وہ بچپن سے ہی مجھے یہ بات کہتے رہتے تھے کہ میرے جانے کے بعد گھر کی ذمہ داری تمہارے ا...

خواتین کے حقوق اور معاشرتی رویے: ایک انسانی نظر

Image
   خواتین کے حقوق اور معاشرتی رویے: ایک انسانی نظر تعارف: خواتین کی قدر اور معاشرے کی حقیقت آج کے دور میں جب ہم معاشرے کی بات کرتے ہیں تو ایک چیز جو سب سے زیادہ نظر آتی ہے وہ ہے لوگوں کی سوچوں پر مبنی لیبلنگ۔ کوئی شخص اگر خواتین کے حقوق کی زیادہ بات کرے تو اسے فیمنسٹ کہہ دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ان کے حقوق کو دبانے کی کوشش کرے تو misogynist کا ٹیگ لگ جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں انتہائیں معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد ایسے لطیفے اور مذاق عام ہیں جو خواتین کو صرف جنسی شے کی طرح پیش کرتے ہیں۔ یہ لطیفے دراصل مذاق نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلہ ہیں جو ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے کہ کیسے یہ رویے ہماری نسلوں کو متاثر کر رہے ہیں، اور کیسے ایک صحتمند معاشرہ بنانے کے لیے سب کو انصاف دینا ضروری ہے۔ یہ مضمون سادہ الفاظ میں لکھا گیا ہے تاکہ ہر عورت اسے پڑھ کر اپنے آپ کو اس میں دیکھ سکے اور محسوس کرے کہ یہ اس کی کہانی ہے۔ ہم مختلف موضوعات کو جوڑ کر دیکھیں گے کہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہو...