درد میں یاد آنے والی ماں اور اس کی خدمت
یوں تو میں اپنا کام کسی سے نہیں کروانا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا بوجھ کسی بھی طرح کسی پر نہ پڑے۔ میں اپنی پوری زندگی میں ہر کام خود ہی کرنا چاہتا ہوں۔ چاہے دفتر سے آ کر تھک کر بیٹھ جانا ہو، یا بدن میں کوئی تکلیف ہو، یا کوئی اور ایسی پریشانی ہو—چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی—میں اسے خود ہی سنبھالنا چاہتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی انسان کسی سے مدد لینے پر مجبور ہو جاتا ہے، شاید نہ چاہتے ہوئے بھی۔ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی ماں یاد آتی ہے۔ اللہ نے ماں
سے انسان کا ایسا رشتہ بنایا ہے کہ دنیا میں وہ اس کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔
ایک شام میرے سر میں درد ہو رہا تھا، یہاں تک کہ میں نے ایک کے بعد ایک چار گولیاں کھا لیں۔ درد تو کچھ کم ہو جاتا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ دفتر میں اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے سے سر کے درد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں، لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اگر آپ موبائل، لیپ ٹاپ یا کسی بھی اسکرین کے سامنے کام کرتے رہیں تو سر کا درد آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ جب میں گھر آیا تو کافی پریشان بھی تھا اور بہت تھکا ہوا بھی تھا۔
مجھے جب بھی کبھی درد ہوتا ہے تو عموماً میں کسی کو نہیں بتاتا، سوائے اپنی ماں کے۔ میں نے امّی سے کہا کہ بہت درد ہو رہا ہے۔ وہ کسی کام میں مصروف تھیں، مگر اٹھ کر میرے پاس آئیں اور میرے سر کی مالش کرنے لگیں۔ تیل اور دوا لگانے کے بعد سر دباتے وقت انہوں نے میرے اوپر دم بھی کیا، یہاں تک کہ مجھے نیند آ گئی۔
یہ سب کچھ جب ہو رہا تھا تو اُس وقت میں ایک بات محسوس کر رہا تھا۔ آج میری ماں کی عمر تقریباً پچاس برس ہو چکی ہے، اور آج تک میں انہی سے اپنی خدمت کرواتا آ رہا ہوں۔ یقیناً مجھ پر بھی ایک ذمہ داری ہے جسے مجھے پورا کرنا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں۔ وہ ماں جو اتنی عمر ہونے کے باوجود ہمارے ایک کہنے پر سارے کام کر دیتی ہے، آج ہم سے اُن کے چھوٹے سے کام بھی نہیں ہوتے۔ ہم ہمیشہ اُن چیزوں پر روتے رہتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں، لیکن کیا ہم اُس کی قدر کرتے ہیں جو ہمارے پاس ہے؟ جس کی خدمت کر کے ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟
نوٹ: یہ بلاگ براہِ مہربانی میری امّی کو نہ بھیجیں، کیونکہ انہیں میرے بلاگ کی نہیں بلکہ میری خدمت کی ضرورت ہے۔

Comments
Post a Comment